بھٹکل:9/ دسمبر(ایس اؤنیوز) ہر سا ل کی طرح امسا ل بھی نومبر ۲۰۱۷ میں انجمن پی یو کا لج فا رویمن بھٹکل کے بی بی خیر النساقا ضیا حسن با پا ہال میں کالج پرنسپال محترمہ ڈا کٹر فرزا نہ محتشم کی زیرِ نگرانی کھیل کود(اسپورٹس)، انگریزی سمینا ر، انگریزی پِک اینڈ رائٹ، اردو مقا بلۂ تقریر و تحریر، مقا بلۂ غزل خوا نی ، کنڑامقا بلۂ تقریر و تحریراور ہندی آرٹیکلس مقا بلہ جا ت کا انعقاد کئے جانے کی کالج کی طرف سے جاری کردہ پریس ریلیز میں جانکاری دی گئی ہے۔
کالج طالبات کے لئے ما ہ نومبرآرزؤں اور تمنا ؤں کا تحفہ بن کر آیا ۔ مقا بلہ جا ت میں حصہ لینے وا لی تما م طا لبات نے پورے جو ش و خروش کے سا تھ اپنی صلا حیتوں کے جو ہر دکھا ئے۔ہر مقا بلہ جا ت میں طا لبات نے اپنی عملی کو ششوں کے ساتھ مختلف تدا بیر کو اختیار کرتے ہوئے اپنی چھپی ہوئی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا۔ مقابلہ جات میں حصہ لئے اور کامیاب تمام طالبات کو ادارۂ انجمن ، کا لج پرنسپال و اسٹا ف ان ہونہا ر طا لبات کو دلی مبا رک باد پیش کرتے ہیں۔ اور اللہ رب العزت کی با رگاہ میں یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ سبحا ن وتعا لیٰ انہیں دنیا کے وہ پھول بنا ئے جن کی خوشبوسے سارا عا لم مہک اٹھے۔ اور سا تھ ہی ساتھ یہ بھی دعا کرتے ہیں کہ اللہ ان کی محنت کو ہمیشہ کا میا ب و کا مران بنا ئے اور انہیں صحت و سلا متی اور خو شحا لی سے نوا زے۔ آمین
انگریزی سمینا ر:زندگی کے ارتقا ء میں تعلیم کا جو کردار ہے، وہ محتا جِ بیا ن نہیں ۔ تعلیم سے سما ج کی نشو و نما ، سیرت کی تعمیراور شخصیت کی تشکیل کے امکانات ہوتے ہیں ۔ تعلیم خو شگوار عمل کی بجا ئے ذہنوں میں ٹھو سنے کے مترادف ہوتی تھی۔ بچوں کے احسا سا ت اور جذبات کو نظر انداز کیا جاتا تھا ۔نتیجہ یہ تھا کہ تعلیم غیر نفسیا تی اور غیر سا ئنٹیفکٹ ہوتی۔ آج قدیم نظرہائے تعلیم کو فرسودہ اور متروک سمجھا جا تا ہے۔ اس لیے جدید تعلیم کی بنیا د نفسیات پر رکھی گئی ہے۔جس میں متعدد مؤثر طریقے اختیا ر کئے جا تے ہیں۔ جن کے ذریعہ ایک طرف مقا صدِ تعلیم پورے ہوتے ہیں۔ اور دوسری طرف طلبہ کی شخصیت سنورتی ہے۔ اور ان کی بھر پور نشو ونما ہوتی ہے۔اس نظریہ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ۱۶ نومبر کو ’’ قومی تعلیم‘‘کا انعقاد کرتے ہوئے مندرجہ ذیل عنوانات پر سمینار منعقد کیاگیا ۔
I. Education as a Perfect Instrument for Social Change
II.Current Issues in Education & its Solution
اس انگریزی سمینا ر میں کثیر تعداد میں طا لبات نے حصہ لیا ۔ ہر طا لبات کا اندازِ بیا ن منفرد اور بہترین تھا۔مقا بلہ کے نتا ئج مندرجہ ذیل ہیں۔ سا لِ اول سالِ دوم
۱) فا طمہ راجے صا حب دیسا ئی ( سا ئنس ) اول۔ ۱) عا ئشہ را جے صا حب دیسا ئی ( سا ئنس ) اول
۲) فرخ محمد امین عجا ئب ( سا ئنس ) دوم۔ ۲) سرا ج النسا محمد فہیم افریقہ ( سا ئنس ) دوم
۳) عا ئشہ صا لحہ رؤف احمدسو نور ( سا ئنس ) سوم۔ ۳) رملہ محمد محسن صدیقی ( سا ئنس )تشجیعی انعام
اردو تحریری مقا بلہ :ہر انسا ن کا اپنا اپنا مزاج اور الگ الگ شوق ہوتا ہے۔ چنا نچہ اسی کے مطا بق لوگوں کے الگ الگ مشا غل ہوتے ہیں۔ لیکن ان سب مشا غل میں کتابوں کا مطا لعہ کرنا ایک اچھا شغل ہے۔اچھی کتا بیں یقیناًزندگی کا اچھا سبق بتا تی ہیں۔کتا بوں کی قیمت جواہرات سے زیا دہ ہے۔ کیو نکہ جو اہرات ظا ہری چمک بتاتے ہیں۔جبکہ کتا بیں با طن کو منور کرتی ہیں۔ اس لیے پی یو سی سا لِ اول کے لیے ’’کتا ب ایک بہترین سا تھی ‘‘اردو تحریری مقا بلہ کے لیے عنوان دیا گیا تھا ۔ طا لبات نے کثیر تعداد میں اس مقا بلے میں حصہ لیااور اس موضوع پر اپنے زرین خیا لات کو پیش کیا۔ اس مقا بلہ کا اہم مقصد طا لبات کے ذوقِ مضمون نگا ری کو ابھا رنا تھا۔ اور طا لبات میں منطقی اور استدلالی فکر کی صلا حیت کو پیدا کرنا مقصودتھا۔ طالبات کی تحریرخوشخط ،صاف صاف لفظوں کے سا تھ سا تھ شا ئستہ خیا لات ، مہذب اورپا کیزہ تھی۔ ہر تحریر اپنی جگہ نگینہ تھی۔لیکن حسبِ ضرورت بہترین مضمون کو منتخب کیا گیا۔ مقا بلے کے نتا ئج مندرجہ ذیل ہیں۔
سا لِ اول سالِ دوم
۱) ریحا نہ محمد الطاف شیخ ( آرٹس ) اول ۱) سرا ج النسا محمد فہیم افریقہ ( سا ئنس دوم ) اول
۲) مبشرہ حبیب اللہ اسپو ( سا ئنس ) دوم ۲) فا طمہ عفیفہ امام حسین ( سا ئنس دوم ) دوم
۳) عا ئشہ عبد الواجد کولا ( سا ئنس ) سوم ۳) عا مرہ تزئین عظمت اللہ سعدا ( سائنس دوم ) سوم
۴) فا طمہ رعنا محمد اختر ارما ر (کا مرس دوم ) رعا یتی انعا م
انگریزی پک اینڈ رائیٹ:دورِ حا ضر میں انگریزی زبا ن غیر معمولی دلچسپی کا با عث بنی ہے۔ بعض نے تجارتی، بعض نے سیا سی اور بعض نے محض علمی مقا صد کے پیشِ نظر انگریزی زبا ن سیکھنے کی کوشش کی ہے۔ لہٰذا ہماری طا لبات میں بھی انگریزی زبا ن کی تحریری صلا حیت کو اجا گر کرنے کے لیے انگریزی پک اینڈ رائیٹ مقا بلہ منعقد کیا گیا۔ طا لبات کی کثیر تعداد نے اس مقا بلے میں حصہ لیتے ہوئے بڑے ہی دل پذیر انداز میں عصرِ حا ضر کے مختلف مسا ئل کو موضوع بنا کر پیش کیا۔سبھی مضا مین ایک سے بڑھ کر ایک رہے۔مقا بلے کے نتا ئج مندرجہ ذیل ہیں۔ سا لِ اول سا لِ دوم
۱) فا طمہ اسرا یو سف جی خواجہ ( سا ئنس) اول ۱) فا طمہ سدرہ ضیا ء الدین احمد دا مودی ( آرٹس ) اول
۲) عا ئشہ عبد ل ما جد صدیقہ ( سا ئنس) دوم ۲) رملہ محمد محسن صدیقی ( سا ئنس ) دوم
۳) فا طمہ عظمت نوال ( سا ئنس ) سوم ۳) زینب صفوہ الطا ف حسین علی اکبریٰ (سا ئنس ) سوم
۴) فا طمہ اینا س ایوب روڈا (سا ئنس ) سوم ۴) عا ئشہ را جے صا حب دیسا ئی ( سا ئنس ) رعا یتی انعام
۵) صبا ح عبد اللہ ودیا ور (آرٹس ) رعا یتی انعا م
اردو تقر یری مقا بلہ:یوں تو ہندو ستا ن پر مسلم حکمرا نوں نے سا لوں سا ل حکو مت کی ہے۔ اور تا ریخ گو اہ ہے کہ ان حکمرا نوں نے کبھی بھی دیگر مذا ہب سے مذہبی تعصب یا دشمنی نہیں رکھی۔ جب اٹھا رویں صدی عیسو ی میں سا ت سمندر پا ر سے آ ئے فرنگیوں کا منحو س سا یہ سا رے ہندوستا ن پر ایک گدھ کی طر ح منڈلا رہا تھا ،مسلما نا نِ ہند کا بھی برا حا ل تھا ۔ زندگی کے ہر مقا م پر نا موا فق حا لات کا تسلط تھا ۔ ان کے سیاسی ، معاشی ، سما جی ، تہذیبی ، ثقا فتی سبھی شعبوں کو تنزل دیمک کی طرح چا ٹ رہا تھا ۔ فن ، ہنر کما ل ، ما ل و دولت ، عزت ، غیرت ، وقار پر آنچ آنے لگی تھی۔ تب میسور جیسی چھو ٹی سی ریا ست سے مسرت و امید کی ایک ایسی کرن پھوٹی جس نے ظلما ت کو ٹکر دی۔ یہا ں سے ایک ایسا دلیر حکمران ابھرا جو جھک جا نے سے کٹ جا نا،اور شیر کی ایک دن کی زندگی کو گیڈر کی صد سا لہ زندگی سے بہتر سمجھتا تھا ۔یہ ذا تِ والا کو ئی اور نہیں شیر میسور ٹیپو سلطا ن شہیدؒ تھے۔ جنہوں نے انگریز و ں اور انگریزی حکو مت کے خلا ف سب سے پہلے آوا ز بلند کی۔ خونخوار فرنگیوں کے مقا بل ایسی چٹا ن بن کر کھڑے ہوئے جس سے ٹکرا کر ہر طو فا ن کا رخ بدل جا تا ہے۔ یہ مردِ آہن اس وقت تک سینہ سپر رہا جب تک کہ اس کی رگوں کا سا را خون میسور کی خا ک میں جذب نہیں ہوا۔ ٹیپو سلطا ن کا جلا ل برِ صغیر ہند پر ہی نہیں بلکہ اقوا م عا لم پر بھی حیرت انگیز حد تک چھا یا ہوا تھا۔ یہ عظیم مجا ہد سا دہ مزا ج ، سا دہ لبا س ، شیریں کلا م، شریعت و معمو لات کے پا بند اور بہت ہی خوددار تھے۔ وہ جا نتے تھے کہ لوگو ں پرحکو مت نہیں کی جا تی بلکہ ان کے دلوں پر محبت کا سکہ بٹھا نا ہی حکو مت ہے۔ ان کی نظر ہندو اور مسلما ن دونوں پر برا بر تھی ۔ یہ جس قدر بہادر تھے ،اسی قدر خدا ترس اور بے تعصب بھی تھے ۔ ٹیپو سلطا ن شہید ؒ تا ریخ اسلا م کا وہ لا زوال کردار ہے، جس پر عا لمِ اسلا م تا قیا مت نا زاں رہے گا ۔
نسلِ نو کو اس عظیم الشا ن شخصیت سے وا قف کرانے کی غرض سے بعنوان ’’ ٹیپو سلطا ن ایک مثا لی حکمران ‘‘ تقریری مقا بلہ منعقد کیا گیا اس مقا بلے میں کئی طا لبات نے حصہ لیا ۔ ما شا ء اللہ بہت خو ب صورت اندا ز میں طا لبات نے اس مو ضو ع پر اپنےخیا لات کو پیش کیا ۔ ہر تقریر اپنی جگہ بے مثا ل تھی۔ لیکن حسبِ ضرورت چند عمدہ اور بہترین تقا ریر کا انتخا ب کیا گیا ۔ مقا بلے کے نتا ئج مندرجہ ذیل ہیں۔ سالِ دوم
۱) جما نہ خوا جہ محی الدین اکرمی ( سا ئنس) اول ۲) فا طمہ ضحی عبد القوی محتشم ( کا مرس) دوم
۳) سرا ج النسامحمد فہیم آفر یقہ ( سا ئنس) دوم ۴) عا ئشہ را جے صا حب دیسا ئی ( سا ئنس) سوم
مقا بلۂ غزل:اردو شا عری میں غزل کو ایک خا ص مقا م حا صل ہے۔ آج اردو غزل کا د امن بہت و سیع ہو گیا ہے۔ دنیا کا کو ئی مضمون ، کو ئی مو ضو ع نہیں جسے غزل نے اپنے وجود میں سمو نہ لیا ہو۔ غزل کی دلکشی کا سب سے بڑا سبب اس کی غنا ئیت ہے۔ شعرمیں ترنم یا مو سیقی نہ ہو تو وہ شعر کہلا نے کا مستحق نہیں ۔ غزل میں یہ خوبی اتنی زیا دہ ہو تی ہے کہ کو ئی دو سری صنف اس کا مقا بلہ نہیں کر سکتی ۔ س لیے طا لبا ت میں حسن صوت کے سا تھ پڑھنے ، خوش الحا نی و ترنم اور بہتر انداز میں الفا ظ ادا کرنے کی صلا حیت کو ابھا رنے کے لیے ’’ مقا بلۂ غزل خوا نی کا
انعقا د کیا گیا۔ جس میں کثیر تعداد میں طا لبات نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اور اپنی سحر انگیز ترنم سے سا معین کے دل و دما غ کو معطر کیا ۔ مقا بلے کے نتا ئج مندرجہ ذیل ہیں۔
سالِ اول سالِ دوم
۱) فا طمہ فرخ عمر فا روق شیخ (آرٹس) اول ۱) نیہا سید ابو بکربا فقی ( کا مرس) اول
۲) فا طمہ تعبیرعمران پیر زادے (سا ئنس) دوم ۲) فاطمہ رعنا محمد اختر ارمار ( کا مرس) دوم
۳) عا ئشہ صا لحہ رؤف احمد سونور (سا ئنس) سوم ۳) فا طمہ سدرہ ضیا ء الدین احمد دا مودی ( آرٹس ) سوم
۴) ریحا م فضل الرحمٰن رکن الدین ( آرٹس) رعا یتی انعا م
کنڑا تقریری مقا بلہ:انسا ن اپنی طبیعت اور مزاج کے اعتبا ر سے کبھی بھی تنہا پسند نہیں رہا ۔سماج میں وہ کئی رشتوں میں بندھا ہو ا رہتا آیا ہے۔ اپنی با ت کہنے اور اپنے احسا سا ت و جذبا ت لوگوں تک پہنچا نے کے لیے انسا ن نے ہر زما نے میں الگ الگ طریقے ڈھونڈ نکا لے ہیں ۔ بدلتے وقت کے سا تھ لو گوں کے ترسیل کے طریقے بھی بدلتے گئے۔ ایسے میں مو بائل فون کی ایجا د ایک حیرت انگیز ایجا د ثا بت ہوئی۔ لوگ اب گھرمیں بیٹھے بیٹھے انگلی کی ایک جنبش سے دنیا میں موجود کسی بھی انسا ن سے با آسا نی با ت کر سکتاہے۔خا ص کر آج کا نوجوان طبقہ مو بائل فون کا عا دی ہو چکا ہے۔ ہر وقت مو بائل کی دنیا میں ڈوبے رہنا انکی عا دتِ ثا نیہ بن گئی ہے۔ان کی ہر صبح مو بائل فون سے شروع ہوتی ہے۔ موبائیل نے انکی نیند تک چھین لی ہے۔ آج مو با ئیل فون اپنی غیر معمولی اثر اندازی کے سبب لوگوں میں چھٹی حس کی حیثیتحا صل کر چکا ہے۔اس ضمن میں ۲۰ نومبر کو’’موبائیل فون :نوجوانوں کی 6حس‘‘عنوان پر کنڑا زبا ن میں ایک تقریری مقا بلہ رکھا گیا ۔ تا کہ طا لبات میں اپنی ریاستی زبا ن سے محبت و لگا ؤ پیدا ہو سکے۔ اور وہ کنڑازبا ن میں اپنے خیا لات و جذبات کو پیش کرسکے۔ اس مقا بلہ میں بھی طا لبات نے کا فی تعداد میں حصہ لیا۔مقا بلہ کے نتا ئج مندرجہ ذیل ہیں۔
۱) روحینہ کو ثر ریا ض احمد (سا لِ اول سا ئنس) اول ۲) فا طمہ زہرہ (سا لِ اول سا ئنس) دوم
۳) جما نہ خواجہ محی الدین ( سا لِ دوم سا ئنس) سوم
کنڑا تحریری مقا بلہ:سا ئنس نے ہمیں جہا ں بہت سی نعمتوں سے نوازا ہے۔ وہا ں انسا نی زندگی کے لیے پیش آنے والے خطرات اور ان سے بچنے کی ترکیبیں بھی بتا ئی ہیں۔ ان خطرا ت میں سے ما حول کی آلودگی بھی ایک زبردست خطرہ ہے۔ اس کے بھیا نک نتا ئج سے آج پوری دنیا خوف زدہ ہے۔ کیو ں کہ ما حول کی آلوددگی ایٹمی جنگ سے بھی زیا دہ تبا ہ کن اور خطر نا ک ہے۔ بہت سے ممالک ما حول کو آلو دگی سے پا ک رکھنے کی کو شش کر رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ۲۵ نو مبر کو کنڑا زبا ن میں تحر یری مقا بلہ بعنوان’’بے کاراشیاء کی دوبارہ استعمال کی ضرورت‘‘رکھا گیا ۔ تا کہ طا لبات ما حول کی صفا ئی اور اس کے تحفظ کے متعلق اپنے خیا لات و جذبات کو کنڑا زبان میں ظا ہر کر سکیں ۔ اور سا تھ ہی ساتھ ان میں کنڑا تحریری مہا رت بھی پروان چڑھ سکے۔ اس مقا بلہ میں کئی طا لبات نے حصہ لیا۔ اور بہترین انداز میں اپنےتا ثرات پیش کئے۔ مقا بلے کے نتا ئج حسبِ ذیل ہیں۔
۱) زینب دستگیر صا حب (آرٹس سا لِ دوم) اول ۲) مشریا عبد الرحمٰن ( سا ئنس سا لِ دوم) دوم
۳) فا طمہ زہرہ ( سا ئنس سا لِ اول) سوم
مقا بلۂ ہندی آرٹیکل:ہندی زبا ن کو ملک کی قومی زبا ن کا درجہ حا صل ہے۔ لہٰذا وطن عزیز میں اس زبا ن کو امتیازی اہمیت حا صل ہے۔ طا لبات کو زبانِ ہندی میں اپنی ذہنی اپج اور خلا قانہ صلا حیتوں کو بروئے کار لا نے اور ہندی تحریری مہا رت کو تقویت دینے ۲۶ نومبر ہندی آرٹیکلس کا تحریری مقا بلہ منعقد کیا گیا ۔ جس میں کئی طا لبات نے شرکت کرتے ہوئے اپنی تحریری صلا حیتوں کے جو ہر دکھا ئے۔ ہندی آرٹیکلس کا یہ مقا بلہ شعری و نثری مو ضو عات پر مشتمل رہا۔ جو کا فی معیا ری تھا۔مقا بلہ کے نتا ئج حسبِ ذیل ہیں۔
( مقا بلہ نثر) (مقا بلہ نظم)
۱) نمرہ تکریم انور سلیم ہجیب ( کامرس سا لِ دوم) اول ۱) ہا جرہ امیمہ ابراہیم خلیل ( کا مرس سا لِ اول ) اول
۲) شبیبہ تسکین صغیر احمد (آ رٹس سا لِ دوم) دوم ۲) رملہ محسن صدیقہ ( سا ئنس سا لِ دوم ) دوم
مقا بلۂ کھیل کود( اسپورٹس):انسا نی زندگی میں کھیل کی وہی اہمیت ہے جو علم کی ہے۔ علم سے اگر دما غی نشو و نما ہوتی ہے تو کھیلوں سے دما غی اور جسما نی دونوں فا ئدے حا صل ہوتے ہیں۔ مختلف کھیل نہ صرف صحت کو بہتر بنا کر جسم میں پھرتی اور طا قت پید ا کرتے ہیں ،بلکہ طا لبات کی دلچسپی اور تفریح کے بہترین ذرائع بھی بنتے ہیں۔کھیلوں کے ذریعہ کھلا ڑی میں ایک دوسرے کو سمجھنے اور مل جل کر کا م کرنے کی صلا حیت پیدا ہوتی ہے۔کھیل سے کھلاڑی ( طا لبات) میں خود اعتما دی ، حو صلہ ،روا داری ، وسیع النظر اور تعا ون کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔ کھیلوں میں بہت سےموا قع ایسے بھی آتے ہیں ،جہا ں کھلا ڑی خود غرضی یا ذاتی مفا د سے ہٹ کر انصا ف ، ایما نداری ،صبر و تحمل اور سچا ئی پر مستقل مزاجی سے قا ئم رہتا ہے۔اس طرح کھیل انسا ن کی شخصیت کو ابھا رنے اور سنوارنے میں پوری پوری مدد کرتا ہے۔طا لبات کے روشن مستقبل کے پیشِ نظرکا لج کے احا طے میں مختلف کھیل کے مقا بلے (۴تا ۱۶ نومبر ) کومنعقد کئے گئے۔ ان مقا بلوں میں طا لبات نے کثیر تعداد میں حصہ لیااوراپنی صلا حیتوں کا مظا ہرہ کیا۔ جس کے نتا ئج مندرجہ ذیل ہیں۔
ڈسکس تھرو: ۱) مزنا سید اقبا ل (آرٹس) اول ۱) فمینہ فا طمہ پی۔ ایم نو شا د (آرٹس) اول
۲) شا ہینہ عبد القادر (آرٹس) دوم ۲) تمنا نذیر احمد (کا مرس) دوم
۳) حفصہ مقبول احمد (کامرس ) سوم ۳) تمنا آرا محمد علی (کا مرس) سوم
کیرم سنگل: ۱) ندا عرفا ن ملا (کا مرس) اول ۱) فا طمہ عفیفہ اما م حسین پٹیل (سا ئنس) اول
۲) مہک نور محمد خا ن ( آرٹس) دوم ۲) آمنہ مغیبہ محی الدین فقردے (کا مرس) دوم
کیرم ڈبل: ۱) حفصہ مقبول احمد (کا مرس) اول ۱) نوئیرہ مزمل ارما ر ( آرٹس ) اول
۲) مسفرہ حفظ الرحمٰن پیشمام (کا مرس) اول ۲) جا ذبہ عبد الرحیم (آرٹس) اول
۳) مہک نور محمد خا ن ( آرٹس) دوم ۳) ثنا سید سلیم (کا مرس) دوم
۴) مسکا ن ارشا د احمد ( آرٹس) دوم ۴) تمنا نذیر احمد (کا مرس) دوم
شا ٹ پُٹ: ۱) عا ئشہ تمثیل محمد خا لد صا دہ ( سا ئنس) اول ۱) فمینہ فا طمہ پی۔ ایم نو شا د (آرٹس) اول
۲) نورا وفا عبد المجید ( کامرس ) دوم ۲) اریقہ نو ر الصا لحین شرنگیری (سا ئنس) دوم
۳) خدیجہ نوحہ عبد النا صر (کا مرس) سوم ۳ ) تمنا آرا محمد علی (کا مرس) سوم
تھرو با ل: سا لِ دوم سا ئنس۔ پہلاانعا م سا لِ دوم کا مرس اے۔ دوسرا انعام
کھو کھو: سا لِ اول کا مرس بی۔ پہلا انعا م سالِ دو م سا ئنس۔دوسرا انعا م
ریلے: سا لِ دوم کا مرس بی۔ پہلاانعا م سا لِ دوم سا ئنس۔ دوسرا انعام